facebookgoogle plustwitteryoutube

2958

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین وبعد!

برادران باصفااور حاضرین باوفا!آج کے خطبۂ جمعہ میں ہم ایک انتہا ئی اہم موضوع پر لب کشائی کرنے کےلے آپ تمام معزز ومکرم حاضرین کے سامنے حاضر ہوے ہیں ۔ ہمیں اپنی علمی بےمائیگی اور خطابی بےبضاعتی کا احساس ہے۔ تاہم محض اللہ تعالیٰ کی توفیق گراں مایہ پر توکل کامل کرتے ہو، ہم آپ کے سامنے اپنی با تیں رکھنے کی جسارت کررہے ہیں:

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات

معزز سامعین ! آج کی اس بزم مخلصاں میں ہم توکل کے موضع پر کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔ توکل کیا ہے؟ اس کی اہمیت وافادیت کیا ہے؟ ایک مسلمان کی زندگی میں توکل کیا کردار ادا کرتا ہے یا کرسکتاہے؟ توکل کے اثرات اخروی زندگی پر کیا اور کیسے پڑسکتے ہیں؟ توکل کے بارے میں کیا کیا غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں اور ان کا ازالہ کیسےممکن ہے؟ انہی اور ان جیسے دوسرے سوالات کا قرآن و حدیث اور آثارِ صحابہ واسلاف کی روشنی اور رہنمائی میں جواب ہمارے آج کے خطبہ کا اصل مدعا ہے:

الہٰی! دے مجھے طرز تکلم میری آواز کو تو زندگی دے

مجھے افکار صالح بھی عطا کر مرے افکار کو تابندگی دے

حاضرین جمعہ! توکل قرآن پاک کی ایک نہایت اہم اصطلاح ہے جس کے لغوی معنی بھروسہ کرنے کے ہیں۔ اور اصطلاح میں اللہ پر پورا بھروسہ اور اعتماد کرنے کا نام توکل ہے۔ عام لوگ اس کے یہ معنی سمجھتے ہیں یا یوں کہئے کہ عام لوگوں کو توکل کے معنی یہ سمجھا دیئے گئے ہیں کہ کسی کام کے لیے جدو جہد اور کوشش نہ کی جائےبلکہ چپ چاپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے، زانو پر زانو ڈالے کسی حجرہ یا خانقاہ میں بیٹھ رہا جائے۔ اور یہ خوش گمانی پال لی جائے کہ اللہ کو جو کچھ کرنا ہے وہ خود کردےگا۔ بہ الفاظ دیگر مقدر میں جو کچھ ہے وہ ہو کر رہےگا۔ قسمت کی اسکرین پر پردۂ غیب میں جو کچھ لکھا ہے اپنے آپ ظاہر ہو ہی جائےگا۔ اسباب وتدابیر اختیار کرنے کی ضرورت نہیں؛ بلکہ ایسا کرنا قرآنی اصطلاح یعنی توکل کے سراسر منافی ہے۔ لیکن یہ سراسر وہم ہے اور مذہبی اپا ہجوں کا ایسا دل خوش فلسفہ ہے جس کو اسلام سے ذرا بھی واسطہ وتعلق نہیں؛ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ مذہبی اپاہجوں کا یہ جنونی فلسفہ پوری اسلامی عمارت کو زمین بوس کردینے کے لیے کافی ہےتو ہمارے خیال میں ذرابھی مبالغہ آمیزی نہیں ہوگی۔

میرے اسلامی بھائیو! آج بھی اسلامی معاشرے میں ایسے نام نہاد زاہدوں اور صوفیوں کی کمی نہیں جنہوں نے ترک عمل ، اسباب وتدابیر اختیار کرنے سے بےپروائی اور خود کام نہ کرکے دوسروں کے خیراتی ٹکڑوں اور لقموں پر جینے کا نام توکل رکھ دیا ہے۔ حالانکہ توکل نام ہے کسی کام کو پورے ارادہ وعزم اور کوشش وتدبیر کے ساتھ انجام دینے اور یہ یقین واعتماد کامل دل میں نہاں رکھنے کا کہ اگر اس کام میں خیر وبرکت اور بھلائی ہے تو اللہ تعالی ٰ اس میں ضرور ہی کامیابی عطا فرمائےگا ۔ تو کل یہ قطعاً نہیں ہے کہ مقدر پر ہر کام کی ذمہ داری ڈال کر خواب خرگوش میں مست رہا جائے۔ اگر تدبیر، جدوجہد اورکوشش کے ترک کا نام توکل ہوتا تو بھلا بتاؤ اتنی بڑی تعداد میں اللہ تعالی ٰ انبیاء ورسل اورمصلحین کو مبعوث ہی کیوں کرتا؟ انبیاء ورسل کو تبلیغ رسالت میں پیہم جد وجہد کی تلقین وتاکید کیوں کرتا؟ توحید ورسالت کے اثبات اور ابلیسی نظام عالم کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر اس کی جگہ خدائی نظام حیات قائم کرنے کی راہ میں جان ومال کی قربانی کو واجب ولازم کیوں گردانتا؟ بدر، احد اور خندق وحنین میں سواروں، تیراندازوں، زرہ پوشوں اور تیغ آزماؤں کی بھلا کیا ضرورت پڑتی ؟ انبیاء ورسل کو ایک ایک قبیلہ، ایک ایک بستی اور ایک ایک فرد کے پاس جاجا کر اسلام کی تبلیغ کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی؟

خدارا مجھے بتاؤ کہ ا گر توکل کا مفہوم اور مدعا یہی ہے جو تم بتا اور سکھارہے ہو تو پھر یہ کائنات کا پورا ہنگامی نظام برپا ہی کیوں کیا گیا؟ بتاؤ اگر تو کل ترک عمل کا نام ہے تو پھر پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معرکۂ اُحد میں دودانت شہید کیوں کروانے پڑے؟ میں جانتا ہوں کہ ان سوالوں کا جواب تمہارے پاس ہے نہيں: تمہیں بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟

اسلام کے شیدائیو! توکل ترک عمل اور ترک تدابیر کا نام نہیں، بلکہ عمل وتدابیر کے ساتھ توکل کرنا مسلمانوں کی کامیابی کا اہم راز ہے۔ یہی وجہ ہےکہ ربِّ کائنا ت نے قرآن کریم کی متعدد آیتوں میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی متعدد حدیثوں میں توکل علی اللہ کے فضائل وبرکات کے دریا بہائے ہیں۔ چنانچہ آسمان وزمین کے رب کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے کہ جب کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو سب سے پہلے مسلما نوں سے مشورہ لیں اور جب رائے کسی ایک نکتہ پر آکر ٹھہر جائے تو اس کو انجام دینے کی ٹھان لیں اور ٹھان لینے کی مستعدی سے وہ خاطرخواہ نتائج پیداکر ےگا، ارشاد ہوتا ہے:

(وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ ) [آل عمران: 159]

”اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بےشک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔”

اور کام یا (لڑائی) کے سلسلے میں ان سے مشورہ لے لو، پھر جب پکا ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو، بےشک اللہ (اللہ پر) بھروسہ رکھنے والوں سے پیار کرتا ہے۔ اگر اللہ تمہارا مددگار ہو تو کوئی تم پر غالب نہ آسکےگا اور اگر وہی تم کو چھوڑ دے تو پھر کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مددکرسکے؟ اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔”

ملت بیضاء کے سپاہیو! دیکھو، ان آیات کو اور سوچو، کتنے نرالے اور خوبصورت انداز میں اللہ نے تو کل کی پوری اہمیت اور حقیقت واضح کردی؟ کیا ان آیات سے لگتا ہے کہ توکل پسپائی اور ترک عمل وترک تدابیر کا نام ہے؟ نہیں، کبھی نہیں! ان سے تو واضح ہو جاتا ہے کہ پورے عزم وارادہ اور مستعدی کے ساتھ کام کو انجام دیتے ہوئے انجام یا نتائج کو اللہ کے حوالے کردینے کا نام توکل ہے؟ یہ سمجھنے کا نام ہے توکل کہ اگر اللہ ہمارا مددگار ہے تو ہمیں کوئی ناکام کرہی نہیں سکتا اور اگر وہی نہ چاہے تو کسی کی کوشش اور تدبیر کام نہیں آسکتی۔ لہذا ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ اپنے کام میں اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کامل رکھے۔ کیا ملےگا ایسے توکل، اعتماد یا بھروسے سے؟ سنئے! آمنہ کے لال عبد اللہ کے لخت جگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: “اگر تم لوگ کما حقہ اللہ پر توکل کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ویسے ہی رزق دے، جیسے پرندوں کو دیتا ہے ، کہ وہ پرندے صبح کو اپنے آشیانوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔” (أحمد)

اسلامی جیالو! دیکھو، یہاں بھی پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہیں پرندوں کی طرح روزی عطا فرمائےگا یعنی پرندے اپنے آشیانوں سے نکل کردور دراز جگہوں پر اپنی روزی تلاش کرتے ہیں اور انہیں مل جاتی ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ گھروں میں بیٹھے رہوگے اور تم پرمن وسلویٰ نازل ہو تا رہےگا؛ بلکہ فرمایا اور نہایت بلیغ انداز میں فرمایا کہ توکل علی اللہ کے ساتھ ہاتھ پیر ماروگے تو روزی تمہیں ملےگی۔ شرط یہ ہے کہ حجرے یاخانقاہ یا کٹیا میں بیٹھ مت رہنا،ورنہ بھوکے مروگے۔

حقیقت توکل پر ایک نظر :

میرے بزرگو اور دوستو ! توکل علی اللہ ایمان کے واجبات وفرائض میں سے ایک عظیم فریضہ وواجب ہے، جس کے دل میں توکل کا نور نہیں، اس کا ایمان اندھیر نگری اور اس کا دل چوپٹ راجہ ہے۔ توکل ایسا عمل ہے جو بندے کو اللہ سے قریب کرتا ہے ۔ توکل متوکلین کے اندر دو ایسی صفات پیدا کردیتا ہے جو کسی دوسرے عمل صالح سے بھی ممکن نہیں اور وہ دو صفات یہ ہیں کہ متوکل طلب روزی میں سعی پیہم کرتا ہے، اور اللہ مسبب الاسباب پر اسے اعتماد کامل ہوتا ہے۔ علامہ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توکل نصف ایمان ہے اور نصف آخر انابت ہے ۔ اللہ تعالی ٰ نے توکل رکھنے والوں کو اجر جزیل اور ثواب عظیم کا وعدہ دیا ہے۔

سامعین کرام ! اب اگر آپ کو تعجب ہوتا ہے تو اس شخص پر تعجب کیجئے جو قدم قدم پر اپنے خالق ورب حقیقی کا محتاج تو ہوتا ہے مگر اس پر تو کل نہیں رکھتا! تعجب اس پر کیجئے جو یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ وہ اپنے آقا ومولیٰ کے سامنے ایک دم بےبس وبےکس اور عاجز وقاصر ہے۔ تا ہم وہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا نہیں ہے اور نہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے!

حیرت اس پر کیجئے جسے یقین ہے کہ تمام امور ومعاملات کی کنجی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھر بھی وہ اس سے نہیں مانگتا جس کے پاس کنجیاں ہیں!

حیرت واستعجاب اس پر کیجئے جو اللہ کی بےپناہ بےنیازی اور اس کی بےپناہ سخاوت کا علم تو رکھتا ہے؛ لیکن اپنے تمام تر معاملات کو اس کے ہاتھوں میں نہیں سونپتا!

حیران وششدر اس پر ہوئیے جو یہ بات جانتا ہے کہ اللہ تعالی ٰ بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم وکریم ہے،جتنی رحیم کریم ماں اپنے بچوں کے لیے ہے، تاہم اس کا دل اللہ کی تدبیر کارسازی پر مطمئن نہیں ہوتا!

تعجب اس پر کیجئے جو یہ بات جانتا ہے کہ اللہ تعالی ٰ اپنی تدابیر کو بخوبی جانتا ہے؛ لیکن وہ اللہ کی دی ہوئی تقدیر پر راضی نہیں ہوتا!

اے اللہ کے بندو! ہمیشہ یاد رکھو کہ کوئی خیر اور بھلائی بغیر تدابیر کے اختیار کیے حاصل نہیں ہوسکتی۔ معبود برحق سے مدد مانگے بغیر اور اس پر کامل بھروسہ واعتماد رکھے بغیر تمہاری کوئی مراد پوری ہو نہیں سکتی ۔

اے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنے والو!تم اپنی کوشش میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے، جب تک کہ تم اللہ کی قوت وطاقت کا دامن مضبوطی سے تھام نہیں لیتے۔

یاد رکھو !جس نے اللہ پر توکل جمادیا، اللہ اس کے لیے کافی وشافی ہے۔ جس نے اس سے مدد مانگی اور اسی کا دامن گیر ہوا، اس نے اپنا دین اور دنیا دونوں کو سنوار لیا۔ بڑھو! اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے نیکی کی راہ پر قدم بڑھاتے چلو، دیکھ لینا تمہاری اندھیری رات کا روشن سویرا بہت جلد طلوع ہوگا۔ بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ مت جاؤ۔ کیوں کہ یہ اپاہجوں کا راستہ ہے اور اس راستے پر چلنے والا ضرورہی اپا ہج بن کررہ جاتا ہے۔ اللہ ہم سب کی نصرت وامداد فرمائے، آمین۔


میرے اسلامی بھائیو! توکل علی اللہ سے متعلق جتنی بھی آیات کریمہ قرآن پاک میں آئی ہیں، ان پر ایک سرسری نظر بھی ڈال لی جائے تو معلوم ہوجائےگا کہ ان میں سے کسی کا بھی یہ مفہوم نہیں نکلتا جو ہم اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھ بیٹھے ہیں :

حضرات گرامی ! ان آیات میں سے ہر ایک کا مفہوم ومدعا اور مقصود یہ ہے کہ ہم مشکلات کے ہجوم وسیلاب، موانع کی کثرت اور زور دار مخالفتوں سے بےخوف ہوکر عزم، استحکام، ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہتے ہوئےاللہ کی مدد سے کام کے حسب خواہ نتیجہ پیدا ہونے کا یقین دل میں رکھیں۔

لیکن صد افسوس!آج ہمارے معاشرے میں کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو تعویذ، گنڈا، غیرشرعی جھاڑ پھونک، ٹونے ٹوٹکے اور جنتر منتر پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھ بیٹھے ہیں کہ مادی اسباب وتدابیر کو چھوڑ کر ان چیزوں سے مطلب برآری کرنا ہی توکل ہے۔ زمانۂ جاہلیت کے تو ہم پرست لوگ بھی ایسا ہی عقیدہ رکھتے تھے۔ لیکن قربان جائیے سیدنا محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم پر کہ انہوں نے ہمیں سیدھی راہ دکھائی اور بتایا کہ “اللہ نے وعدہ کیاہے کہ میری امت کے ستر ہزار اشخاص حساب کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ اشخاص وہ ہوں گے جو تعویذ گنڈا نہیں کرتے، جو بدشگونی کے قائل نہیں، جو داغا نہیں کرتے، بلکہ اپنے پروردگار پر توکل اور اعتماد رکھتے ہیں۔ (البخاری: کتاب الطب، باب من لم یرق، وکتاب الرقاق، وصحیح مسلم: کتاب الإیمان)

ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا :جو دغواتا اور تعویذ گنڈا کراتا ہے، وہ توکل سے محروم ہے۔ (الترمذی: باب ما جاء فی کراھیۃ الرقی)

برادران اسلام!ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھئے اور بتائے کہ کیا اس سےمقصود ومدعا نفس تدبیر کی ممانعت ہے؟ نہیں، حاشا وکلا۔ اس سے مقصود رسومِ جاہلیت کی بیخ کنی ہے۔ اس سے پہلے بھی جو حدیث ہم نے آپ کے سامنے بیان کی تھی، اس سے مراد بھی ترک عمل اور ترک تدابیر نہیں بلکہ اس سے بھی مقصود یہ ہے کہ جو لوگ اللہ پر توکل اور اعتماد سے محروم ہیں وہ روزی کے لیے دل تنگ کرلیتے اور کبیدہ ٔ خاطر ہوتے ہیں، اور اس کے حصول کے لیے ہر قسم کی بدی اور برائی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حالانکہ اگران کو یقین ہوکہ: (وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا ) [هود: 6]

“زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندارہیں سب کی روزیاں اللہ پر ہیں”

تو وہ اس کےلیے چوری، ڈاکہ زنی، بےایمانی،جنگ وقتال اور خیانت کے مرتکب نہ ہوتے، اور نہ ان کو تنگدلی اور مایوسی کا شکار ہونا پڑتا۔ بلکہ صحیح طور سے وہ کوشش کرتے اور روزی پاتے ہیں۔ ان حدیثوں کا وہی مفہوم ہے جو اس آیت میں ادا ہوا ہے۔

ارشاد ربانی ہے:( وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ) [الطلاق: 2]

“اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔”

حاضرین گرامی! ان تفصیلات سے ہویدا ہو گیا کہ توکل جس قلبی یقین کا نام ہے۔ اسی کے قریب قریب آج کل کے اصطلاحات میں خود اعتمادی کے لفظ کا استعمال ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کامیاب افراد وہی ہوتے ہیں جن کے اند رخود اعتمادی کا جوہر بدرجۂ اتم پایا جا ۔ لیکن یاد رہےکہ جہاں پر خود اعتمادی کی سرحد ختم ہوتی ہے وہیں سے اقلیم غرور اور ملک فریب نفس کی سرحد شروع ہوجاتی ہے۔ اس لیے مذہب اسلام نے انانیت کی خود اعتمادی کے بجائے “خدا اعتمادی” کا نظریہ پیش کیا ہے۔

میرے دینی بھائیو!اللہ تعالیٰ نے اس امت کو جو عزت وشرف اور جوکرامت وبرزگی عطا کی ہے، اس کا انحصار اور دارومدار کلی طور پر صحیح عقیدہ ٔ اسلامی پر ہے۔ اگر آپ کا عقیدہ صحیح ہے تو آپ کو مرحبا، لیکن اگر آپ کا عقیدہ ہی صحیح نہیں ہے،تو پھر نامرادی آپ کا مقدر ہے۔ لہذا ہر قسم کی جاہلانہ رسوم وبدعات سے اجتناب کیجئے کیوں کہ آپ حامل عقیدہ ٔ اسلامی ہیں۔ توکل کے جو معنی آپ کو بتائے گئے، ان کو گرہ باندھ لیں تاکہ شیطان آپ کے دل میں راہ نہ پاسکے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس کی توفیق عنایت فرمائے،آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔