facebookgoogle plustwitteryoutube

4527

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،

فقد قال اللہ تبارک و تعالیٰ فی کلامہ المجید، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ) [التوبة: 119]

حضرات! اللہ تعالیٰ کا بےحد احسان وکرم ہے کہ اس نے دنیا میں صدق یعنی سچائی جیسی عظیم صفت بھی پیدا کی ہے اور انسانوں کویہ حکم دیا کہ سچائی کو اپنائیں، اس کو اپنی زندگی میں داخل کریں، اس کو اپنا شیوہ اور وطیرہ بنائیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو بھی پیدا کیا مگر اس سے بےحد ڈرایا ، اس سے دور دور رہنے کی تلقین کی، اس کی مذمت کی اور اس کے برے نتائج سے آگاہ کیا۔

حضرات !اگر اللہ تعالی ٰ کی جانب سے سچائی کو اپنانے اور جھوٹ سے دور دور رہنے کا حکم نہ ہوتا تو آج دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ۔ ہر انسان ایک دوسرے سے جھوٹ بولتا ، اس لیے کہ جھوٹ بولنا بےحد آسان ہوتا ہے۔ دل تھوڑا سا جھوٹ کی طرف مائل ہوا اور ہونٹوں میں حرکت ہوئی جھوٹ نکل گیا، دیکھا آپ نے کتنا آسان ہے۔ جبکہ سچ بولنا بےحد مشکل ہے۔ بہت زیادہ جان گسل اور کٹھن ہے سچ کی طرف دل کو مائل ہونے میں بھی دیر لگتی ہے اور سچ کے لیے ہونٹ بھی لرزتے ہوئے کھلتے ہیں۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ سچ یا جھوٹ کی نوبت ہی اس وقت آتی ہے جب معاملہ پھنستا ہوا نظر آتا ہے، اور عموماً اس کے پیچھے کوئی ڈر اور کوئی خوف پوشیدہ ہوتا ہے۔ کہیں مال کے ضا‏ئع ہونے کا ڈر، کہیں جان جانے کا ڈر، کہیں لوگوں کی نظروں سے گر جانے کا ڈر تو کہیں نوکری چلی جانے کا ڈر، اور ڈر کا یہ سلسلہ زلف جاناں کی طرح دراز ہے یہاں تک کہ کہیں والدین کا ڈر، کہیں بچوں کا ڈر، کہیں استاذ کا ڈر تو کہیں طلبہ کا ڈر، کہیں بیوی کا ڈر تو کہیں شوہر کا ڈر، کہیں ذمہ داروں کا ڈر تو کہیں کسی اور کا ڈر۔ اوریہ ڈر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ انسان سے جانے یا انجانے میں کوئی ایسا عمل سرزد ہوجاتا ہے جس کا اظہار معیوب ہو، یا اس کی وجہ سے کسی پریشانی کا اندیشہ لاحق ہو۔ اور اس پریشانی سے بچنے کے لیے کوئی بہانہ تراشتا ہو۔

کوئی خوبصورت سا بہانہ بنا کر اپنا دامن بچا لینا چاہتا ہو۔ ایسا کرنے پر وقتی طور پرتو وہ خود کو کامیاب تصور کرتا ہے مگر جھوٹ تو جھوٹ ہے اس کا پردہ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں ضرور فاش ہوتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کا انجام برا ہوتا ہے۔

جھوٹ ایک فریب ہے، جھوٹ ایک دھوکہ ہے، جھوٹ ایک بیماری ہے، جھوٹ ایک نہایت ہی بری خصلت ہے۔ جھوٹ سے اعتماد کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ جھوٹ سے آپسی تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں، جھوٹ سے انسان اخلاقی معیار سے نیچے گر جاتا ہے۔ جبکہ سچ ایک طاقت ہے، ایک اعلی ترین خصلت ہے۔ سچ سے انسان کو بلندی ملتی ہے۔ سچ انسان کو مضبوط بنادیتا ہے۔ سچ سے آپسی اعتماد بحال ہوتا ہے اس لیے جب انسان سچ کو اپناتا ہے تو فطری طور پر اس کے دل سے اللہ کے سوا تمام لوگوں کا ڈر نکل جاتا ہے ۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ تو مجھے دیکھ رہا ہے مجھے اس کے سامنے بھی جواب دینا ہے۔ ممکن ہے اس دنیا میں جھوٹ بول کر نکل جاؤں مگر کل قیامت کے میدان میں جب اللہ کے سامنے میری پیشی ہوگی تو کیا جواب دوں گا؟ نتیجتاً ایسا انسان برائيوں سے بچ جاتا ہے یا کوئی ایسی حرکت کرنے سے گریز کرتا ہے جس کے کرنے سے بعد میں ندامت ہو۔

اللہ تعالیٰ نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ) [التوبة: 119]

“اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو.”

اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا :

( فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ) [محمد: 21]

“تو اگر وہ اللہ کے ساتھ سچے رہیں تو ان کے لئے بہتری ہے۔”

حضرات :اگر دیکھا جائے تو بنیادی طور پر صدق اور کذب یعنی سچ اور جھوٹ دونوں الگ الگ مستقل صفات ہیں، دونوں علیحدہ علیحدہ خصلتیں ہیں، اور کسی بھی انسان کے اندر دونوں صفات کے پائے جانے کا امکان بدرجۂ اتم رہتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ سچ یا جھوٹ دونوں کے بولنے پر قادر ہے۔ اللہ نے اس دنیا میں چھوٹ دے رکھی ہے، تاکہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کردیا ہے کہ سچ کی اور سچ بولنے والوں کی کیا قدر وقیمت ہے۔ اور جھوٹ بولنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز میں سچائی کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور لوگوں کو اس پر چلنے کی ترغیب دلائی ہے۔ قرآن کریم کی بےشمار آیتیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں۔ اگر آپ قرآن کریم کی آیتوں میں غور کریں گے تو اندازہ ہوگا کہ سچ کا کتنا بڑا مقام ومرتبہ ہے کہ سچائی کی نسبت کہیں خود اللہ کی ذات کی جانب ہے تو کہیں انبیاء کی جانب ہے۔ کہیں صالحین کی جانب ہےتو کہیں صالحات کی جانب ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا ) [النساء: 87]

“ اللہ تعالیٰ سے زیاده سچی بات والا اور کون ہوگا۔”

ایک دوسری جگہ ارشادہے:

( وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا ) [النساء: 122]

“یہ ہے اللہ کا وعده جو سراسر سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے زیاده سچا ہو؟۔”

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کویہ صدق اس قدر محبوب وپسندیدہ ہے کہ اس نے صیغہ تفضیل کے ساتھ اپنے لیے استعمال فرمایا ہے۔

ایک دوسری جگہ یہود کے تمرد وطغیان اور اس کی من مانی شریعت پر زجروتوبیخ کرتے ہو ئے فرمایا :

( وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ) [الأنعام: 146]

“اور ہم یقیناً سچے ہیں۔”

اس صدق کی نسبت نبیوں اور رسولوں کی طرف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرما یا :

( وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ) [الزمر: 33]

“ اور جو سچے دین کو لائے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں۔”

مزید وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پرا پنے پیارے خلیل سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے فرمایا:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا [مريم: 41]

“اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر، بیشک وه بڑی سچائی والے پیغمبر تھے۔”

حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ) [مريم: 56]

“اور اس کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا بھی ذکر کر، وه بھی نیک کردار پیغمبر تھا۔”

اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا ) [مريم: 54]

“اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ بھی بیان کر، وه بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی۔”

غرض یہ کہ صدق اور سچائی انبیاء کی صفت رہی ہے ۔ نبیوں کی یہ خصلت اتنی مبارک خصلت ہے کہ اللہ نے قرآن کریم میں اس کا ذکر جمیل فرمایا تاکہ انسان اس خصلت کو اپنانےکی کوشش کرے، نبیوں کی سچائی کا ذکر سن سن کر نبیوں کو اپنا آئیڈیل بناتے ہوئے سچائی کی راہ پر گامزن رہے۔ اس کے برعکس کذب یعنی جھوٹ کی ہمیشہ مذمت کی گئی ہے، اس خصلت کو نہا یت ہی معیوب قرار دیا گیا ہے ۔ اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اور مختلف پیرائے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جھوٹ کی راہ پر چلنے والے لوگ بہت برے ہوتے ہیں۔ جھوٹ کافروں کا شیوہ ہے، جھوٹ مشرکین کی خصلت ہے، جھوٹ منافقین کی علامت ہے، جھوٹ فرعون کی پہچان، جھوٹ شداد کا شیوہ، جھوٹ ہامان کاوطیرہ ہے، جھوٹ ابوجہل کی جہالت ہے۔ جھوٹ ابولہب کی شرارت ہے۔ اور جھوٹ یہود ونصاری کا تمرد وطغیان اور سرکشی ہے، اس سلسلہ میں کچھ مختصر دلیلیں ملاحظہ ہوں۔

ارشاد ربانی ہے:

( فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ) [البقرة: 10]

“ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔”

اس آیت میں بیماری سے مراد وہی کفرو نفاق کی بیماری ہےجس کی اصلاح نہ کی جائے تو بڑھتی چلی جاتی ہے اور اسی طرح جھوٹ بولنا منافقین کی علامت میں سے ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے۔

ایک جگہ ارشاد فرمایا :

( وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآَيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ) [البقرة: 39]

“اور جو انکار کرکے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، وه جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔”

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا :

( فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ) [التوبة: 77]

“پس اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اللہ سے ملنے کے دن تک، کیونکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے وعدے کے خلاف کیا اور کیوں کہ جھوٹ بولتے رہے۔”

اس آیت کریمہ میں دو اور دوچار کی طرح یہ واضح کردیا گیا کہ نفاق وکذب میں چولی دامن کا رشتہ ہے بلکہ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ جس کے دل میں نفاق ہو وہ جھوٹ سے بچ نہیں سکتا اور جو جھوٹ بولے گاوہ ضرور نفاق کے مرض میں مبتلا کردیا جائے گا۔

( وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ ) [القصص: 34]

“اور میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) مجھ سے بہت زیاده فصیح زبان والا ہے تو اسے بھی میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج کہ وه مجھے سچامانے، مجھے تو خوف ہے کہ وه سب مجھے جھٹلا دیں گے۔”

یقینا ً آپ سب جانتے ہیں کہ موسی علیہ السلام کے مدمقابل جو قوم تھی وہ قبطی قوم تھی اور اس کا سربراہ اعلی اپنے وقت کا خدائی دعویٰ کرنے والا اللہ کا نافرمان فرعون تھا۔ اسی فرعون اور اس کی قوم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ لوگ تکذیب پر اُتر آئیں گے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا اور جھٹلا نا فرعون اوراس کی قوم کی صفات میں سے ہے۔

حضرات گرامی!آپ نے اچھی طرح محسوس کرلیا ہوگا کہ سچ کے حاملین کون ہیں اور جھوٹ کی راہ پر چلنے والے کون لوگ ہیں۔ اور کس کا کیا انجام ہوتا ہے۔

ارشاد نبوی ہے:

“عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن الصدق یھدی إلی البر وإن البر یھدی إلی الجنۃ، وإن الرجل لیصدق حتی یکتب عند اللہ صدیقا، وإن الکذب یھدی إلی الفجور وإن الفجور یھدی إلی النار وإن الرجل لیکذب حتی یکتب عند اللہ کذابا” (متفق علیہ)

“حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یقیناً سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک اسے اللہ کے یہاں بہت سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ نافرمانی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نافرمانی جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی یقینا جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں وہ بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔”

حقیقت تو یہ ہے کہ سچائی اس دنیا میں بھی انسان کو عزت وتوقیر عطا کرتی ہے اور لوگوں کی نظروں میں اس کو ثقہ بنا دیتی ہے۔ سچ بولنے میں کچھ دشواریوں کا آنا یقینی ہے کیوں کہ ہر اچھی چيز کے حصول میں ایک قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اور ہر گلاب کو کانٹوں سے گھیر دیا گيا ہے ۔ تو ظاہر ہے سچ بولنے سے ملنے والا مقام ومرتبہ یوں ہی آسانی سے نہیں مل جاتا ہے مگر سچ بولنے کی وجہ سے آنے والی ہر پریشانی عارضی ہے، وقتی ہے۔ جلد یا بدیر اس کا خاتمہ لازمی ہے۔ ہر دور، ہر زمانے میں نوروظلمت کا تصادم رہاہے، ابتدائے آفرینش سے ہی صدق وکذب کی جنگ چلی آرہی ہے، جھوٹ اور سچ کا مقابلہ کوئی انوکھی بات نہیں یہ سرشت ابن آدم میں داخل ہے۔ دنیا کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوئی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ صادقین کو جب صدق کے پاداش میں تختہ دار پربھی چڑھایا گیا تو دنیا نے ان کے صدق کی عظمت وقوت کو جھک کر سلام کیا ، سچ جب بھی میدان میں ثابت قدم رہا باطل سرنگوں ہوگیا ۔ سچ انسان کوقوت عطا کرتا ہے، مردانگی عطا کرتا ہے، ثابت قدمی کا ہنر بخشتا ہے۔ اور زندگی کی حقیقی لذت سے بہرو ر کرتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سچ کے ساتھ زندگی گزارنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ جس شخص کو اللہ کے علاوہ نہ کسی کا ڈر نہ کسی کا خوف ہو اطمنان قلب اور سکون جان اس کی زندگی کا خاصہ بن جاتا ہے ۔

ارشاد نبوی ہے :

“دع ما یریبک إلی ما لا یریبک فإن الصدق طمانیۃ، والکذب ریبۃ” (رواہ الترمذی)

“وہ چیز چھوڑدے جو تجھے شک میں ڈالے، اور اسے اختیار کر جس کی بابت تجھے شک وشبہ نہ ہو۔ اس لیے کہ سچ اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ شک اور بے چينی ہے۔ (اس کو ترمذی نے روایت کیا، اور کہا کہ حدیث صحیح ہے، حدیث: 2518)

دوستو!سچ اور سچائی اختیار کرنے سے نہ صرف اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے بلکہ سچ بولنے والے کی زندگی میں سچ بولنے کی وجہ سے برکتوں کی آمد بھی شروع ہو جاتی ہے جیسا اس حدیث شریف سے مترشح ہوتا ہے ۔

“عن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: البیعان بالخيار مالم یتفرقا، فإن صدقا وبینا بورک لھما فی بیعھما، وإن کتما وکذبا محقت برکۃ بیعھما” (متفق علیہ)

“حضرت ابو خالد حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “دونوں سودا کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، پس اگر وہ دونوں سچ بولیں اور چیز کی حقیقت صحیح صحیح بیان کردیں کوئی عیب وغیرہ ہوتو بتلا دیں۔ تو ان کے اس سودے میں برکت ڈال دی جا تی ہے اور اگر وہ چھپائيں اور جھوٹ بولیں تو ان کے سودے سے برکت مٹادی جاتی ہے۔” (بخاری: 2079، ومسلم: 1523)

أقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم ولسائر المسلمین و أتوب إلی اللہ من کل ذنب إنہ ھو التواب الرحیم۔


p> نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، أما بعد!

سامعین کرام !صدق کی اہمیت وفضیلت اور کذب کی مذمت وقباحت کو آپ کے سامنے کھول کھول کر رکھ دیا گیا ہے ۔ اور اس دنیا میں ہر آدمی کو اختیار بھی دے دیا گیا ہے “وھدیناہ النجدین” دونوں راستے اس کے سامنے موجود ہیں۔ اگر وہ چاہے کہ سچائی کا راستہ اپنا کر انبیاء وشہداء، صحابہ، اولیا اور حاملین اوصاف حمیدہ کی صف میں کھڑا ہوجائے تو یہ راستہ بھی کھلا ہوا ہے۔ اگر کوئی دنیا کی معمولی چمک دمک، اور رنگینیوں سے متاثر ہو کر جھوٹ کی راہ پر چل پڑے اور برے لوگوں کی صحبت میں جا پہنچے تو یہ بھی اس کے لیے ممکن ہے اور یہ راستہ بھی مکمل کھلا ہوا ہے۔ اور تمام حقائق کو سامنے رکھ کر وہ خود فیصلہ کرے کہ وہ کس راستہ پر چلنا چاہتا ہے ۔ کس سے اس کا دل مطمئن ہے۔ اگر جھوٹ کے برے نتائج کو سمجھنے کے باوجود بھی کوئی جھوٹ سے باز نہ رہ سکے اور آگ کو آگ جاننے کے باجود خود کو اس کے اندر ڈال دے تو یقینا اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا اور آگ اس کو جلاڈالے گی ۔

حضرات!بنیادی طور پر صدق اور کذب یعنی سچ اور جھوٹ کی کئی اقسام اور مختلف نوعیتیں ہیں۔

انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سچ، اس کا ایمان ہے، اللہ کی توحید اور اس کی ربوبیت کا اقرار، اس کی الوہیت کو ماننا ہے،نبی پر ایمان لانا ہے، جبکہ سب سے بڑا جھوٹ توحید کا انکار یعنی کفر اورشرک ہے۔ کائنات کا ہرذرہ اللہ کی وحدانیت پر دلیل ہے مگر انسان ان سارے حقائق ودلائل وبراہین کو جھٹلا دیتا ہے، اسی لیے کہا گيا ہے کہ۔ “ولیس بعد الکفر ذنب: “ کفر سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں۔”

کفر ہی کا ہم پلڑہ دوسرا بڑا جھوٹ شرک ہے۔ وجود باری تعالیٰ کا انکار جتنا بڑا جرم ہے اتنا ہی بڑا جرم شرک بھی ہے جبکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے اس کے باوجود مشرک ان لاکھوں کڑوروں دلیلوں کو جھٹلا دیتا ہے۔ اور دنیا کے سب سے عظیم جرم کا مرتکب ہو جاتا ہے۔

ارشاد باری ہے :

( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا ) [النساء: 48]

“یقیناًاللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بڑا گناہ اور بہتان باندھا۔”

جس طرح کفر اور شرک ایک عظیم گناہ ہے اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنا بھی بہت بڑا گناہ ہے ۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

(من کذب علی متعمدا فلیتبوء مقعدہ من النار) (متفق علیہ)

“جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولے تو وہ یقین کر لے کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔”

نبی پر جھوٹ بولنے کا تصور عجیب وغریب معلوم ہو تا ہے کہ نبی پر جھوٹ کیسے بولا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بات کو اپنی طرف سے بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردینا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے حلال شدہ چیزوں کو حرام اور حرام شدہ چیزوں کو حلال بنا نا بھی اسی زمرہ میں شامل ہے۔

جھوٹی گواہی دینا، عام گفتگو میں بھی جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ میں سے ہے۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کبیرہ کا شمار کرا تے ہوئے فرمایا :

“الإشراک باللہ، وعقوق الوالدین وشھادۃ الزور ألا وقول الزور، وشھادۃ الزور، ألا وقول الزور، وشھادۃ الزور” (بخاری ومسلم)

حتی کہ ایک انسان اور خصوصاً مومن ومسلمان کو مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ۔

ارشاد نبوی ہے :

“ویل للذی یحدث فیکذب لیضحک بہ القوم، ویل لہ ویل لہ” (أبوداود: 4990، وحسنہ الألبانی)

“ اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو لوگوں سے کوئی بات بیان کرتا ہے پس جھوٹ بولتا ہے تا کہ وہ انہیں ہنسائے۔ اس کے لیے ہلاکت ہے اس کے لیے ہلاکت ہے ۔”

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا ۔

“أنا زعیم بیت فی ربض الجنۃ لمن ترک المراء وان کان محقا ویبیت فی وسط الجنۃ لمن ترک الکذب و إن کان مازحا” (أبوداؤد: 4800، وحسنہ الألبانی)

“میں اس شخص کو جنت کے ادنیٰ درجہ میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑنے سے اجتناب کرے اور اس شخص کو جنت کے درمیانے درجہ میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو جھوٹ چھوڑ دیتا ہے اگرچہ وہ مذاق کیوں نہ کر رہا ہو۔”

حضرات!جس طرح جھوٹ کے مختلف درجات اور اس کی مختلف قسمیں ہیں اسی طرح جھوٹ کی مختلف نوعیتیں بھی ہیں۔ اہل علم نے اس کو تین نوعیتیوں میں تقسیم کیا ہے۔

“الکذب فی القول”

"بات چیت اور گفتگو میں جھوٹ بولنا ۔"

“الکذب فی العمل”

"اپنے افعال واعمال اور کردار میں جھوٹ استعمال کرنا۔"

“الکذب فی الأحوال”

" اعمال قلب وجوارح میں جھوٹ شامل کرنا۔ یعنی فقدان خلوص۔"

جس طرح جھوٹ کی تین نوعیتیں ہیں اسی طرح سچ کی بھی تین نوعیتیں ہیں۔ زبان میں سچائی،عمل میں سچائی،اور نیت کی سچائی،ایک انسان اگر ان تینوں نوعیتیوں پر کنٹرول کرلے ۔ اور سچائی تینوں خانوں میں داخل کر لے تو یقیناً وہ انسان دونوں جہاں میں سرخرو اور کامیاب ہوکر رہےگا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

“إضمنوا لی ستا من أنفسکم أضمن لکم الجنۃ، أصدقوا إذا حدثتم و أوفوا إذا وعدتم، و أدوا إذا أوتمنتم و أحفظوا فروجکم، و غضوا أبصارکم و کفوا أیدکم” (232/5)

“ تم مجھے اپنی طرف سے چھ باتوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ بات کرو تو سچ بولو، وعدہ کرو تو پورا کرو ، تمہیں امانت سونپی جائے تو اسے ادا کرو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو، نگاہیں نیچی رکھو، اور اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔”

اب اخیر میں صحابی رسول حضرت کعب بن مالک کے اس جملہ کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ:

“إنما أنجانی بالصدق و أن توبتی إن لا أحدث إلا صدقا ما بقیت” (2769)

“اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ تعالیٰ نے سچ بو لنے کی وجہ سے ہی نجات دی ہے۔ اس لیے میں اپنی توبہ کی قبولیت کے شکرانے کے طور پر جب تک زندہ رہوں گا جھوٹ نہیں بولوں گا۔“

اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کو جھوٹ سے بچائے اور سچائی کی راہ پر چلائے آمین ۔

و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔