facebookgoogle plustwitteryoutube

اللہ تعالی کے اسماء و صفات جاننے کی اہمیت و فضیلت
811

اللہ تعالی کے اسماء و صفات جاننے کی اہمیت و فضیلت

اللہ تعالی کے اسماء و صفات جاننے کی اہمیت و فضلیت درجِ ذیل باتوں سے عیاں ہوتی ہے:

پہلی بات:سارے علوم میں سب سے زیادہ مقام و مرتبہ رکھنے والا علم وہ ہے جس کا تعلق اللہ تعالی کی ذات، اور اس کے اسماء و صفات سے ہو، اور بندے کی اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی معرفت کے بقدر

اس کے اندر اپنے پروردگار کی بندگی، اس سے انسیت و محبت اور اس کی ہیبت پیدا ہوتی ہے، جوکہ اللہ تعالی کی خوشنودی اور اس کی جنت کے حصول کا طالب بننے، نیز آخرت میں اللہ تعالی کے دیدار کی نعمت سے بہرہ ور ہونے کا سبب ہوتی ہے۔ اور یہ مقصد اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔

دوسری بات:اللہ تعالی کے اسماء و صفات کا علم سارے علوم کی جڑ، ایمان کی بنیاد اور سب سے پہلا فرض ہے؛ کیونکہ جب لوگ اللہ تعالی کا کماحقہ علم حاصل کرلیں گے، تو وہ اس کی کماحقہ عبادت بھی کریں گے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:{(آپ یقین کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نھیں) }(محمد: 19)

کسی بھی علم کی اہمیت اس علم سے حاصل ہونے والی اشیاء کی اہمیت پر موقوف ہوتی ہے، اور اللہ تعالی کی ذات، اور اس کے اسماء و صفات سے بڑھ کر اہمیت و شرف رکھنے والا کوئی علم نہیں ہے۔

تیسری بات:اللہ تعالی کی اس کے اسماء و صفات کی معرفت حاصل کرنے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے، وحدانیت کا ثبوت ملتا ہے، اور بندگی کی لذت محسوس ہوتی ہے۔ اور یہ لذت ایمان کی روح، اس کی جڑ اور اس کا مقصود ہے۔ اس مقصود کے حصول کا سب سے زیادہ آسان طریقہ قرآن کریم میں موجود اللہ تعالی کے اسماء و صفات میں غور و فکر کرنا ہے۔ اللہ تعالی جب کسی بندے کو اپنی معرفت سے نوازنا چاہتے ہیں، اور اس کے دل کو اپنی محبت کی آماجگاہ بنانا چاہتے ہیں، تو اپنی صفاتِ کمال کو قبول کرنے، اور مشکاۃِ نبوت سے اس کو حاصل کرنے کے لئے اس کا دل کھول دیتے ہیں۔ پھر جب بھی بندے کے سامنے اللہ تعالی کی صفات میں سے کوئی چیز آتی ہے، تو وہ اس کو قبولیت کی نظر سے دیکھتا ہے، خوشی و اطاعت کے جذبے سے اس کو قبول کرلیتا ہے، اور تابعداری کے ساتھ اس پر یقین رکھتا ہے، پھر اس یقین کی وجہ سے اس کا دل منور ہوجاتا ہے۔

بندے کا دل کشادہ ہوجاتا ہے، محبت و خوشی سے بھر آتا ہے، پھر اس کی خوشیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، اس کی بے نیازی بڑھ جاتی ہے، اللہ تعالی کی معرفت پروان چڑھتی ہے، اس کے دل میں اطمینان و سکون پیدا ہوتا ہے، پھر وہ اس معرفت کے ساتھ اس کے میدانوں میں گھومتا پھرتا ہے، اور معرفت کے باغوں میں اپنی بصیرت والی آنکھوں سے دیکھتا ہے، کیونکہ اس کا یہ یقین ہے کہ علم کی اہمیت اس کے ذریعے حاصل ہونے والی اشیاء کی اہمیت پر موقوف ہوتی ہے، اور اس جیسی صفات والی ذات سے زیادہ کوئی بھی حاصل کئے جانے والا علم اہم و افضل نہیں ہے، اور وہ ذات اللہ تعالی کی ہے، جو اسماء حسنیٰ اور صفاتِ عالیہ کی حامل ذات ہے۔ نیز علم کی اہمیت اس کی ضرورت کے مطابق ہوتی ہے، اور روح کو اپنے خالق و بارئ کی معرفت، اس کی محبت، اس کا ذکر، ذکرِ الہی سے ملنے والی خوشی، اللہ تعالی سے وسیلہ مانگنے، اور اس کے دربار سے قربت حاصل کرنے سے زیادہ کبھی کسی عظیم چیز کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، اور اس ضرورت کو پورا کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، اور وہ راستہ اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی معرفت ہے۔ بندہ جس قدر اللہ تعالی کے اسماء و صفات کا علم رکھتا ہے، اسی قدر وہ اللہ تعالی کی ذات کی معرفت حاصل کرتا ہے، اسی قدر وہ اس کا طلبگار رہتا ہے، اور اس سے قریب ہوتا ہے۔ اور بندہ جس قدر ان اسماء و صفات کا انکار کرتا ہے، اسی قدر وہ اللہ تعالی کی ذات سے ناواقف، اس کو ناپسند کرنے والا، اور اس سے دوری اختیار کرنے والا ہوتا ہے۔ بندہ اپنے دل میں اللہ تعالی کو جو مقام دیتا ہے، اسی کے مطابق اللہ تعالی بھی اس کو اپنے پاس مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے۔

اللہ تعالی کی ذات، اس کے اسماء و صفات کی معرفت دل کی اصلاح اور ایمان کی تکمیل ہے۔

چوتھی بات:درحقیقت اللہ تعالی کی ذات کی معرفت رکھنے والا انسان اپنے اسماءِ حسنیٰ و صفاتِ الہیہ کے علم کو اللہ تعالی کے جملہ افعال و احکام کے لئے ثبوت بناتا ہے؛ اس لئے کہ اللہ تعالی سے وہی افعال صادر ہوتے ہیں جو اس کے اسماء و صفات کے تقاضوں کے عین مطابق ہوتے ہیں، اور اس کے اعمال حکمت و انصاف اور فضل و کرم پر مبنی ہوتے ہیں۔ نیز اللہ تعالی جو بھی حکم صادر کرتے ہیں، وہ سارے احکام اپنی کبریائی، حکمت و فضل کے تقاضوں کے عین مطابق ہوتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی کی طرف سے دی جانے والی ساری خبریں سچ اور حق ہیں، اور اس کی طرف سے ملنے والے سارے احکام عدل و انصاف، اور حکمت و رحمت پر مبنی ہیں۔ اسماء و صفات کا یہ علم عظیم مرتبہ و مقام کا حامل ہے، اور مزید وضاحت کرتے ہوئے اس کی طرف آگاہ کرنے سے بے نیاز ہے۔

پانچویں بات:اللہ تعالی کی صفات اور ان کے تقاضوں میں شامل ہونے والی ساری ظاہری اور باطنی عبادتوں کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے، اس لئے کہ ہر صفت کے لئے ایک خصوصی بندگی ہے، جو اس کے تقاضوں میں شمار ہوتی ہے۔ دلی طور پر اور جسمانی طور پر کی جانے والی ساری عبادتوں میں یہ بات عام ہے؛ چنانچہ جب بندے کو یہ یقین حاصل ہوجائے کہ صرف اللہ تعالی ہی نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی دینے اور چھین لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہی روزی دیتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے، اور وہی زندگی اور حیات بخشتا ہے، تو اس یقین سے باطنی طور پر بندے کے اندر توکل و بھروسہ کی بندگی پیدا ہوتی ہے، اور ظاہری طور توکل کے آثار رونما ہوتے ہیں۔ بندے کا اللہ تعالی کے سننے اور دیکھنے کی قدرت رکھنے والے کا علم رکھنا، اور یہ جاننا کہ اللہ تعالی سے کائنات کا ذرہ برابر بھی پوشیدہ نہیں ہے، وہ ہر ڈھکی چھپی چیز کو جانتا ہے، وہ آنکھوں اور سینوں میں چھپی ہوئی چیزوں کا علم رکھتا ہے، تو اس علم سے بندے میں ہر اس چیز سے محفوظ رہنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جس سے اللہ تعالی ناراض ہوتے ہیں۔ پھر وہ اپنے ان اعضاء کو ان ہی اشیاء سے مربوط رکھتا ہے، جو اللہ تعالی کو راضی اور خوش رکھتے ہیں، اس کے نتیجے میں باطنی طور پر بندے کے اندر حیاء کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اور حیاء بندے کو برائیوں اور حرام چیزوں سے دور رکھتی ہے۔ جب بندے کو اللہ تعالی کی بے نیازی، جود وکرم، انعام و اکرام سے نوازنے کی قدرت اور اس کی رحمت کا علم ہوتا ہے، تو اس سے بندے کے اندر امید کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جب بندے میں اللہ تعالی کی عظمت و جلال اور عزت و ہیبت کی معرفت پیدا ہوجاتی ہے، تو اس سے بندے میں خشوع و خضوع اور محبت پیدا ہوتی ہے، اور پھر یہ ساری باطنی کیفیتیں اپنے اپنے تقاضوں کے مطابق بندے میں ظاہری بندگی کی کئی شکلیں پیدا کرتی ہیں۔ ۔ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بندگی کا سارا دار و مدار اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے تقاضوں پر مبنی ہے۔

چھٹی بات:اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے بندوں کے دلوں کی، اور اخلاق و کردار کی سدھار میں بڑے اچھے اثرات ہیں، نیز اس کے برعکس اسماء و صفات الہیہ کے علم سے ناواقفیت روحانی امراض کا دروازہ ہے۔

ساتویں بات:جب کبھی بندہ کسی مصیبت و تکلیف یا پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے، تو ایسے اوقات میں اللہ تعالی کے اسماء و صفات کا علم بندے کے لئے تسلی کا ساماں ہوتا ہے، کیونکہ جب بندے کا یہ یقین ہو کہ اس کا پروردگار زیادہ جاننے والا، حکمت والا اور انصاف کرنے والا ہے، جو کسی ایسے شخص کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا، جو اس کے فیصلوں سے خوش ہو اور صبر کا دامن تھامے ہوئے ہو، اور بندے میں یہ یقین پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کو پہنچنے والی ساری مصیبتیں، اور ساری آزمائشوں میں کئی مفادات و مصلحتیں ہیں، جن کے ادراک سے اس کا علم قاصر ہے، لیکن اللہ تعالی کی حکمت و علم کا تقاضہ یہی ہے، تو اس یقین سے بندے کو قرار ملتا ہے، اپنے رب کے فیصلے سے وہ خوش رہتا ہے، اور اپنے سارے معاملات کو اللہ کے سپرد کردیتا ہے۔

آٹھویں بات:اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے معانی کو سمجھنا اللہ تعالی کی محبت و عظمت، اس کی ذات سے امید باندھے رکھنے، اس سے خوف کرنے، اس پر بھروسہ رکھنے، ہمیشہ اس کو حاضر و ناظر سمجھنے، اور اس کے علاوہ دیگر بہت سی خوبیاں بندے میں پیدا کرنے کا ضامن ہے، جوکہ اسماء حسنیٰ اور صفاتِ الہیہ کی معرفت کے ثمرات ہیں۔

نویں بات:یقیناً اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے معانی میں غور و فکر کرنا اللہ تعالی کی کتاب قرآن کریم میں غور و فکر کرنے کا معاون و مددگار ہے، اور اللہ تعالی نے اپنے کلامِ پاک میں قرآن کریم میں غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے:{یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔ }(ص: 29)

چونکہ قرآن کریم میں بکثرت اللہ تعالی کے اسماء و صفات کا مناسب مقامات پر ذکر آیا ہے، لہذا ان اسماء و صفات میں غور و فکر سے کام لینے میں قرآن کریم میں تدبر و تفکر کا ایک بڑا دروازہ کھل جاتا ہے۔ جب آپ قرآن کریم میں تدبر و تفکر سے کام لیں گے، تو قرآن کریم آپ کو آسمانوں کے اوپر عرش پر بیٹھے ہوئے ایسے بادشاہ اور قیوم ذات کا مشاہدہ کروائے گا، جو اپنے بندوں کے معاملات چلاتا ہے، انہیں حکم دیتا ہے اور منع کرتا ہے، رسولوں کو بھیجتا ہے، کتابیں نازل کرتا ہے، راضی ہوتا ہے اور ناراض بھی ہوتا ہے، ثواب اور عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے، دیتا بھی ہے اور چھینتا بھی ہے، عزت بخشتا ہے اور ذلیل بھی کرتا ہے، بلندی اور پستی دینے کا اختیار رکھتا ہے، ساتوں آسمانوں کے اوپر سے دیکھتا اور سنتا ہے، ہر ڈھکی اور کھلی چیزوں کو جانتا ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے، ہر کمال و خوبی کا حامل ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ذرہ برابر بھی اس کی اجازت کے بنا حرکت نہیں کرتا ہے، اور پتّہ بھی اس کے علم کے بنا نہیں گرتا ہے، یقیناً وہ ذات بہت زیادہ علم و حکمت والی ہے۔

جو اللہ تعالی کی ذات کو پالے، اس نے کیا کھویا؟ اور جو اللہ تعالی کو کھودے، اس نے کیا پایا؟

دسویں بات:اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی معرفت دل میں اللہ تعالی کا ادب و احترام اور اس سے حیاء کرنے کا داعیہ پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالی کے ادب و احترام کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے دین پر استقامت کے ساتھ عمل کیا جائے، اور ظاہری و باطنی طور پر اس دین کے آداب بجا لائے جائیں، اور اللہ تعالی کا ادب و احترام تین چیزوں کے بنا پیدا ہو ہی نہیں سکتا ہے: ایک اللہ تعالی کے اسماء وصفات کی معرفت ہو، دوسری چیز اس کے دین و شریعت، اور اس کی پسندیدہ و ناپسندیدہ چیزوں کی معرفت ہو، تیسری چیز علمی و عملی طور پر حق و سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار رہنے والا نرم دل ہو۔

گیارھویں بات:اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی معرفت بندے کو اپنے نفس کی برائیوں، اور اس کے اندر پائے جانے والے عیوب سے آگاہ رکھتی ہے، پھر بندہ اپنے نفس کی اصلاح میں لگ جاتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ انکار و ہٹ دھرمی کے چار اسباب ہیں: تکبر، حسد، غصہ، اور شہوت نفسانی۔ اور ان چار اسباب کے پیدا ہونے کی وجہ بندے کی اپنے پروردگار کی ذات سے، اور خود اپنے آپ سے ناواقفیت ہے، اور جب بندہ اپنے پروردگار کی باکمال صفات اور باعظمت خوبیوں سے واقف ہوجاتا ہے، اور اپنے نفس میں پائے جانے والی برائیوں سے آگاہ رہتا ہے، تو پھر وہ نہ تکبر کرتا ہے، نہ غصہ کرتا ہے، اور نہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنے کسی بھائی کو ملی ہوئی نعمتوں پر حسد کرتا ہے۔

بارھویں بات:اللہ تعالی کے اسماء و صفات سے بندے کا واقفیت و سمجھ نہ رکھنا، اور ان صفات کی بناء پر اللہ تعالی کی بندگی نہ کرنا گمراہی و جہالت کا سبب ہے۔ جس شخص کو اللہ تعالی اور اس کے رسولوں کا علم نہ ہو، تو وہ پھر کس چیز کا علم رکھنے والا شمار ہوگا؟ جس شخص کو اسماء و صفات الہیہ کی حقیقت ہی معلوم نہ ہو، تو پھر وہ کس چیز کی حقیقت جان سکتا ہے؟ اور جس شخص کو اللہ تعالی کی ذات، اس کی مرضی و چاہت کے مطابق عمل، اس کے دربار سے قریب کرنے والے راستوں، اور اللہ تعالی کے دربار تک پہنچنے کے بعد اس کو ملنے والی نعمتوں کا علم نہ ہو، تو پھر وہ کس علم اور عمل کا حامل سمجھا جائے گا؟ یقینی طور انسانی زندگی اس کی روح و دل کے زندہ ہونے پر موقوف ہے، اور دل اسی وقت زندہ رہتا ہے، جب اس کو اپنے خالق کی معرفت ہو، اس سے محبت ہو، اسی کی عبادت میں وہ لگا ہو، اسی کے سامنے گریہ و زاری کرتا ہو، اسی کے ذکر سے اس کو سکون حاصل ہوتا ہو، اور اسی کے تقرب سے اس کو انسیت ملتی ہو۔ جس شخص کو اس جیسی زندگی حاصل نہ ہو، وہ دراصل ہر قسم کی بھلائی سے محروم ہے، چاہے اس کے عوض دنیا کی ساری نعمتیں اس کو مل جائیں۔

اللہ تعالی کی معرفت میں دلوں اور جسموں کی اصلاح ہے۔

تیرھویں بات:اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی معرفت وحدانیت کو خالص کرنے اور ایمان کو کامل بنانے کا سبب ہے۔ اسی معرفت سے دلی اعمال، جیسے اخلاص و محبت، امید و خوف، اور ایک ذات پر بھروسہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی معرفت کا اہتمام، اور اس میں غور و فکر ایک چھوٹا سا عمل ہے، لیکن دلوں کی اصلاح، اور وسوسوں و آفتوں سے دلوں کو پاک رکھنے میں اس کا بہت بڑا کردار ہے۔ جو شخص شریعت کے اصول و ضوابط میں غور و فکر سے کام لے گا، تو اس کو یہ علم ہوجائے گا کہ اعضاء و جوارح کے اعمال دل کے اعمال سے مربوط ہیں، اور اعضاء و جوارح سے سرزد ہونے والے اعمال دلی اعمال سے متعلق ہیں، نیز اس شخص کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اعضاء و جوارح سے طے پانے والے اعمال سے زیادہ اہمیت ان اعمال کی ہے، جو دلوں سے صادر ہوتے ہیں۔ کیا مومن اور منافق کے درمیان صرف اسی بات سے فرق نہیں کیا جاتا ہے کہ ان دونوں کے دلوں میں کیا کیا عقائد مضمر ہیں، جو ان دونوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتے ہیں؟ اور کیا کسی بھی انسان کے لئے اعضاء کے عمل سے پہلے دل کے عمل کے ذریعے اسلام میں داخل ہونے کے علاوہ کوئی اور راستہ ہے؟ دل کی بندگی اعضاء و جوارح کی بندگی سے زیادہ عظیم و اہم، اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، اور یہی بندگی اعضاء سے صادر ہونے والے اعمال کا راستہ ہے؛ اسی لئے دل کی بندگی ہر وقت ضروری و فرض ہے۔