نماز جنازہ


1376

ميت کی تیاری

میّت کے پاس اس وقت آنا مستحب ہے جب اس پر موت کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں اوراس وقت اسکو" لا إِله إِلا الله کی تلقین کرنی چاہیے"۔[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

آپ ﷺ کے قول کی وجہ سے "تم اپنے مُردوں کو " لا إِله إِلا الله " کی تلقین کیا کرو" اور جب وہ فوت ہو جائے تو اسکی آنکھیں بند کر دی جائیں اور کپڑے کے ساتھ ڈھانپ دیا جائے۔ اسکی تیاری، نماز جنازہ اور اسکے دفن میں جلدی کی جائے۔

میّت کو غسل، اسکی تیاری اور اسکے دفن کا حکم

میّت کو غسل دینا، اسکوکفن پہنانا،اس پر نمازجنازہ پڑھنا اور اسکو دفن کرنا فرض کفایہ ہے۔ اگر نماز جنازہ کچھ لوگ پڑھ لیں تو باقیوں سے ساقط ہو جائیگی۔

میّت کو غسل دینے کے احکام

1۔ مناسب یہ ہے کہ مرد کو غسل کیلیے ایسے آدمی کو چُنا جائے جو ثقہ ہو، عادل ہوامانتدارہواور غسل کے احکام کو جانتا ہو۔

2۔ جسکو میّت نے وصیّت کی ہو اسکوغسل میں پہل کرنی چاہیے، پھر قریب ترین رشتہ داروں کو غسل دینا چاہیے،جوغسل کے احکام کو جانتے ہوں وگرنہ اسکو آگے کرنا چاہیے جو غسل کے احکام کو جانتا ہو۔

3۔ مرد مردوں کو غسل دیں اور عورتیں، عورتوں کو غسل دیں اور میاں بیوی بھی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضي الله عنها سے فرمایا "نہیں نقصان دیگی تجھ کو اگرآپ مجھ سے سے پہلے وفات پا جائیں، میں آپکو غسل دوں گا، کفن پہناؤں گا اور آپ پر نماز پڑھوں اور دفن کروں گ" [یہ حدیث امام ابن ماجہ نے روایت کی ہے]

اور مرد اور عورت دونوں سات سال سے کم بچے بچیوں کو غسل دے سکتے ہیں اور کسی مسلمان مرد یا عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کافر کو غسل دے، اسکے جنازے کو اٹھائے، کفن دے، اس پر نماز پڑھے اگرچہ وہ انتہائی قریبی ہی کیوں نہ ہو جیسے باپ۔

4۔ لڑائی میں شہید ہونیوالے کو غسل نہیں دیا جائے گا نہ نماز پڑھی جائیگی بلکہ اسکو اسکے کپڑوں میں دفن کیا جائیگا۔

5۔ وہ حمل جو چار مہینوں کے بعد ضائع ہو اسکو غسل بھی دیا جائیگا، کفن بھی دیا جائیگا اور اس پر نماز بھی پڑھی جائیگی۔کیونکہ چار مہینوں کے بعد حمل انسان شمار ہوتا ہے۔

6۔ جس پانی سے غسل دیا جارہا ہو اسکا پاک ہونا ضروری ہے اور غسل باپردہ جگہ میں دیا جائے اور جس آدمی کا میت کے غسل کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو اسکا وہاں آنا مناسب نہیں ہے۔

میّت کو غسل دینے کا طریقہ

1۔ میّت کو غسل والی چارپائی پر رکھا جائے۔ باقی کپڑے اتار دیئے جائیں۔ اور اسکو کسی حجرے میں آنکھوں سے چھپایا جائے۔

2۔ غسل دینے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ غسل کے وقت اپنے ہاتھ پر کوئی کپڑا وغیرہ یا لفافہ وغیرہ چڑھا لے۔

3۔ غسل دینے والا میّت کے سر کو انسان کے بیٹھنے کے برابر بلند کرے۔ پھر اپنے ہاتھ کو اسکے پیٹ پر پھیرے اور دبائے پھر اسکی اگلی اور پچھلے شرمگاہ کو صاف کرے، جو نجاست وغیرہ لگی ہو اسے دھو دے۔

4۔ غسل کی نیّت کرے اور تسمیہ پڑھے۔

5۔ غسل دینے والا میّت کو نماز کے وضو کی طرح وضو کرائے مگر کلی نہ کرائے اور نہ ہی ناک میں پانی ڈالے۔ ناک اور منہ پر مسح کافی ہے۔

6۔ میّت کے سر اور اسکی داڑھی بیری کے پانی کے ساتھ یا صابن وغیرہ کے ساتھ دھوئے۔

7۔ پہلے دائیں طرف کو غسل دے پھر بائیں طرف کو پھر باقی جسم کو۔

8۔ آخری دھونے میں کافور کو ملالے۔

9۔ میّت کو خشک کرے۔

10۔ عورت کے بالوں کا جوڑا بنا لے اور اسکے پیچھے سے شروع کرے۔

 غسل دینے والی چارپائی پر رکھی ہوئی نعش کی تصویر۔
 غسل دینے والے کی تصویر جب اس نے اپنے ہاتھ پر کوئی لفافہ یا کپڑا لپیٹا ہوتا ہے۔
 غسل دینے والا میّت کے سر کو اونچا کرے۔
 غسل دینے والا اپنے ہاتھ کو میّت کے پیٹ پر پھیرے اور اسکو دبائے۔