پاکی اور پانی


860

طہارت کی تعریف

پاکیزگی لغت میں

گندگی سے بچنا

طہارت شریعت میں

حدث کا خاتمہ، اور گندگی کا زائل کرنا۔

طہارت کی اقسام

1۔ معنوی طہارت

طہارت معنوی کا اطلاق شرک، گناہ اور وہ چیز جو دل کو زنگ آلودہ کر دے، پر ہوتا ہے۔ طہارت معنوی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک شرک کی نجاست دل میں پائی جاتی ہو۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "اے ایمان والو جو لوگ مشرک ہیں وہ غبی ہیں سو اس سال کے بعد مسجد حرام کے نزدیک نہ آنے پائیں"

آپﷺ کا ارشاد ہے "کہ مومن کبھی ناپاک نہیں ہوت" [یہ حدیث متفق علیہ ہے]

2۔ محسوس ہونے والے پاکی

طہارت حسی یہ ہے کہ انسان اپنے بدن کو تمام نجاستوں سے پاک کر لے چاہے وہ حدث کے لاحق ہونے سے ہی کیوں نہ واقع ہوئی ہو (جیسے کے حاجت کے بعد وضو کر لیا)

1- حدث سے پاکی

حدث کی طہارت سے مراد یہ ہے کہ ایسی ناپاکی لاحق ہو جو مسلمان کو اس عبادت سے روک دیتی ہے جس کے لیے پاکی شرط ہے جیسے کہ نماز، طواف وغیرہ۔ پھر حدث کی قسمیں ہیں۔

حدث اصغر : حدث اصغر وہ ہے جوصرف وضو کو لازم کر دے جیسے کہ چھوٹی اور بڑی قضاء (حاجت) اور تمام وضو توڑنے والی چیزیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "اگر تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو"

حدث اکبر : حدث اکبر جو غسل کو واجب کر دیتا ہے جیسے کہ جنابت اور حیض وغیرہ۔ اس سے پاکی غسل کرنے کی صورت میں ملتی ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے "اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کر لو"

اور اگر وضو اور غسل کرنا ممکن نہ ہو تو تیمم کے ساتھ پاکی حاصل کی جا سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اور اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو"

غسل سے حدث اکبر کے لیے پاکی حاصل کی جانے کی تصویر
وہ حدث جو نماز سے روکے اس کی تصویر
وضو سے حدث اصغر کی پاکی حاصل کی جانے کی تصویر۔

نجاست سے پاکی

نجاست سے پاکی نجاست کو ہٹانے سے ہو گی، جیسے کہ بدن کپڑا اور مکان سے نجاست کو پاک کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں "اپنے آپ کو پاک رکھو"

آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ "زیادہ تر عذاب قبر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے" [یہ حدیث امام ابن ماجہ نے روایت کی ہے]

طہارت بدن کی تصویر
طہارت مکان کی تصویر
طہارت ثوب کی تصویر

پانی کی اقسام

پاک پانی

یہ بذات خود پاک ہوتا ہے اور غیر کو بھی پاک کرتا ہے۔

1 - عام پانی

آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ "اگر تم میں سے کوئی مسجد آئے تو اس کو چاہیے کہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر اس کے ساتھ کوئی گندگی یا تکلیف دہ چیز ہے تو اسکو ہٹا دے اور پھر اس میں نماز پڑھے"

ماء مطلق وہ پانی ہے جو اس صفت پر قائم رہے جس پر وہ پیدا کیا گیا جیسے کہ وہ آسمان، بارش، برف اور سردی کی شکل میں نازل ہوا ہو یا وہ زمین پر بہنے والا ہو جیسے کہ سمندر، نہر، بارش اور کنوے کا پانی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : "ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل کی"۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعہ سے تم کو پاک کر دے"

آپ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے "اے اللہ میری خطاؤں کو برف، پانی اور سردی سے دھودے" [یہ حدیث متفق علیہ ہے]

آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ"سمندر کا پانی پاک ہے اور اسکا مردہ بھی حلال ہے" [اس حدیث کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

 بارش کی تصویر
 نہر کی تصویر
  سمندر کی تصویر
 کنوؤں کی تصویر

2۔ استعمال شدہ پانی

ماء مستعمل وہ پانی ہے جو وضو کرنے والے یا غسل کرنے والے کے اعضاء سے گرا ہو اس کو طہارت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت : " ہے کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ایک برے برتن میں غسل فرمایا، آپ ﷺ نے اس برتن سے وضو کرنا چاہا تو آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے فرمایا کہ میں جنابت میں تھی تو آپ ﷺ نے جواب دیا کہ پانی کو جنابت لاحق نہیں ہوتی۔ "[اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]